ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ملک میں اب بھی غلامی کے دور کا قانونی نظام رائج ہے: چیف جسٹس رمنا

ملک میں اب بھی غلامی کے دور کا قانونی نظام رائج ہے: چیف جسٹس رمنا

Sun, 19 Sep 2021 11:22:59    S.O. News Service

نئی دہلی، 19؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)چیف جسٹس آف انڈیا(سی جے آئی)این وی رمنا نے ملک کے عدالتی نظام پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں غلامی کے دور کے انصاف کا نظام اب بھی موجود ہے۔ شاید یہ ملک کے لوگوں کیلئے اچھا نہیں ہے۔ کرناٹک اسٹیٹ بار کونسل کے جسٹس ایم ایم شانتناگودر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے چیف جسٹس نے قانونی نظام کو ہندوستانی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسائل پر عدالتوں کا موجودہ کام کرنے کا انداز درست نہیں ہے۔

بار اور بنچ کے مطابق چیف جسٹس رمنا نے کہا کہ دیہی علاقوں کے لوگ قانونی کارروائی کو انگریزی میں نہیں سمجھتے۔ اس لیے انہیں زیادہ پیسہ ضائع کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کوعدالتوں اور ججوں سے نہیں ڈرنا چاہیے۔رمنا نے کہا کہ کسی بھی عدالتی نظام میں سب سے اہم مقام مقدمہ دائر کرنے والے شخص کا ہوتا ہے۔ عدالتی کارروائی شفاف اور جوابدہ ہونی چاہیے۔ ججوں اور وکلاء کا فرض ہے کہ وہ ایسا ماحول بنائیں جو آرام دہ ہو۔

جسٹس رمنا نے جسٹس شانتنا گودر کو یادکرتے ہوئے کہا کہ جسٹس شانتنا گودر عام لوگوں کی ضروریات کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے جسٹس شانتنا گودر کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس شانتنا گودر کا ملک کی عدلیہ میں اہم کردار ہے۔ملک نے ایک ایسے جج کو کھو دیا ہے جو لوگوں کا خیال رکھتا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملک نے ایک ایسے جج کو کھو دیا ہے جو عام آدمی کے مفاد کا خیال رکھتا تھا۔ انہوں نے پریکٹس کرتے ہوئے غریب اور پسماندہ افراد کے کیس اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ان کا فیصلہ سادہ اور عملی تھا۔ وہ ہمیشہ سننے کیلئے تیار رہتے تھے۔ ان کی حس مزاح بھی بہترین تھی۔


Share: